Tuesday, 18 November 2014

Justice

چور کے ہاتھ اور وزیر کی زبان دونوں کاٹ دو


باد شاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو۔ کمہار نے جواب دیا کہ جو گدھا بھی لائن توڑتا ہے اسے سزا دیتا ہوں بس اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کیا تم میرے ملک میں امن قائم کرسکتے ہو؟
کمہار نے حامی بھر لی۔
شہر آئے تو بادشاہ نے اسے منصف بنا دیا
کمہار کے سامنے ایک چور کا مقدمہ لایا گیا۔ کمہار نے نے فیصلہ سنایا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو۔
جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔
کمہار نے دوبارہ کہا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو۔ اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ جناب تھوڑا خیال کریں یہ اپنا آدمی ہے۔
کہمار بولا چور کے ہاتھ اور وزیر کی زبان دونوں کاٹ دو۔ کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔
( Shahbaz Ahmad)

!!!پاکستان میں بھی اسی طرح کی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے





باد شاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو۔ کمہار نے جواب دیا کہ جو گدھا بھی لائن توڑتا ہے اسے سزا دیتا ہوں بس اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کیا تم میرے ملک میں امن قائم کرسکتے ہو؟
کمہار نے حامی بھر لی۔
شہر آئے تو بادشاہ نے اسے منصف بنا دیا
کمہار کے سامنے ایک چور کا مقدمہ لایا گیا۔ کمہار نے نے فیصلہ سنایا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو۔
جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔
کمہار نے دوبارہ کہا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو۔ اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ جناب تھوڑا خیال کریں یہ اپنا آدمی ہے۔
کہمار بولا چور کے ہاتھ اور وزیر کی زبان دونوں کاٹ دو۔ کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا

1 comment: