قرطبہ جنوبی سپین کا شہر
قرطبہ مسلمانوں کے شاندار ماضی کا غماز اور اپنے دامن میں قدیم تہذیب و ثقافت کی دولت سمائے ہوئے اہم شہر ہے۔ یہ
جنوبی سپین کے صوبے قرطبہ کا دارالحکومت ہے جو دریا گا دلکویر کے ساتھ ساتھ 37.88عرض بلد اور 4.77 طول بلد پر واقع ہے۔ اس شہر کی آباد ی 3لاکھ 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ ویسے تو شہر کی بنیاد رومن ایمپائر مین کلاڈیس مارسلیس نے رکھی تھی، مگر اس شہر کو دوام اور عروج مسلمان حکمرانوں نے بخشا۔ دسیوں صدی میں اس شہر کی آبادی پانچ لاکھ تھی اور دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں اس کا شمار کیا جاتا تھا۔
۔716 عیسوی میں یہ شہر بنی امیہ کے دور میں فتح ہوا اور یہ شہر تقریباً 1031ء تک مسلمانوں کے زیر حکمرانی رہا، اس دوران بہت سی لازوال تخلیقات اور عمارات ظہور میں آئیں اور ساتھ ساتھ اس شہر نے ثقافتی ، تجارتی اور اقتصادی طور پر بے مثال ترقی کی۔
شہر کی تعمیرات میں سب سے مشہور اور خوبصورت مسجد قرطبہ ہے ۔ ویسے تو شہر میں ایک ہزار کے لگ بھگ مسا جد تھیں، مگر یہ مسجد سب سے ممتاز اور پُر شکوہ تھی اور ایک وقت میں یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسجد شمار کی جاتی تھی۔ مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے اس کی تعمیر و توسیع جاری رکھی۔ 1236ء میں فرڈیننڈ نے قرطبہ شہر کو مسلمانوں سے دوبارہ فتح کیا اور اس کو گرجا میں تبدیل کردیا۔ بنی امیہ کے بعد یہ علاقہ عباسیوں اور فاطمیں کے زیر نگیں رہا۔
دسویں صدی میں مسلمانوں کی حکمرانی کا عروج تھا جب عبدالرحمن سوئم نے نہ صرف اندلس کی سلطنت کو متحد کیا، بلکہ شمال کی جانب عیسائی ریاستوں کو بھی سلطنت میں شامل کیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے یہاں کی بہت سی تاریخی عمارات کو عالمی ورثے کا حصۃ قرار دیا ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عالمی ورثے کی حامل عماراتیں اس شہر میں واقع ہیں۔
شہباز احمد
No comments:
Post a Comment