Tuesday, 25 November 2014

AATQAAF

اعتکاف 

آخری عشرہ اور اعتکاف 
اعتکاف کے لغوی معنی کسی جگہ بند ہو جانے یا ٹھہرنے کے ہیں۔ (دینی) اصطلاح میں عبادت کی نیت سے روزہ رکھ کر (بیت) میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔ 
رمضان کے آخری عشرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت کے ساتھ اعتکاف کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ مسنون اعتکاف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ثابت ہے یہ ہے کہ کم از کم اعتکاف دس سن کا ہو۔ اعتکاف بیس رمضان المبارک کی  نماز فجر سے شروع کرنا چاہیے۔







اعتکاف کی اہمیت
حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ 
(صحیح بخاری جلد اول کتاب الصوم)

قرآن کریم میں رمضان المبارک کے آخر میں لیلۃ القدر کی برکات کا ذکر ہونے کے علاوہ آنضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے نہ صرف خود شب بیداری کرتے بلکہ اپنے گھروالوں کو بھی (عبادت کے لئے ) جگا دیتے۔ 
(مشکٰوۃ کتاب الصوم باب لیلۃ القدر )

غرض یہ کہ رمضان کے آخری عشرہ میں رحمت الٰہی اور مغفرت کے حصول کی بنا پر جنم سے آزادی ملتی ہے۔ خدا تعالیٰ غیر معمولی طور پر دعائیں قبول فرماتا ہے۔ ان ایام میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی دوسرے ایام کی نسبت زیادہ توفیق مرحمت ہوتی ہے۔





کموزنگ شہباز احمد

No comments:

Post a Comment