Tuesday, 25 November 2014

Mobile & Use it

موبائل اور اس کا استعمال 


آج کل موبائل فون کا  استعمال بہت زیادہ ہو گا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور
 وجوانوں میں تقریباً سبھی کے پاس موبائل فون موجود ہے۔
موبائل فون ایک مفید ایجاد ہے لیکن اس کا منفی استعمال بہت سی برائیوں کو جنم دیتا ہے۔ اس کا غلط استعمال بے راہ روی کا باعث ہے نیز نوجوانوں میں بہت سی اخلاقی کمزوریاں بھی اس کی مرہون منت ہیں۔
مختلف نیٹ ورکس بہت سے نائٹ پیکجز آفر کرتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ نو جوان رات کے بارہ بجتے ہی پیکجز کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے گمان میں اپنے پیر پر کلہاڑی مار رہے ہوتے ہیں یعنی پیسے، وقت اور اخلاق کا ضیاع کر رہے ہوتے ہیں۔ موبائل کا غلط استعمال گھروں کے سکون کی بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ نائٹ پیکجز پر پابندی ایک انتہائی مستحسن قدم ہے لیکن یہ پابندی مستقل بنیادوں پر ہونی چا ہیے نہ کہ عارضی طور پر اور اگر یہ پابندی قانوناً بہ بھی ہو تو کم از کم ہمیں اخلاقاً اپنے اوپر اس پابندی کو عائد کر لینا چاہیے۔

ایک اور بات جو دیکھنے میں آتی ہے کہ نمازوں کے اوقات میں بعض افراد نماز باجماعت کے لئے بیت الذکر آتے ہیں تو موبائل فون کو سائیلنٹ پر نہیں لگاتے۔ اول تو نماز کے اوقات میں موبائل بند کر دینے چاہئیں کہ نماز سے ضروری اور کوئی کام نہیں۔ لیکن اگر آپ موبائل پر کال آ جاتی ہے اور وہ بجنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک تو آواز اونچی ہوتی ہے اور اس پر مستزادیہ کہ کسی گانے کو بھی بطور رنگ ٹون سیٹ کیا ہوتا ہے۔ اس سے موبائل والے کی توجہ تو بٹتی ہے لیکن دوسرے نمازی بھی بہت تنگ ہوتے ہیں اور ان کی توجہ بھی نماز سے ہٹ جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ گانے کی بجائے کوئی نظم بطور رنگ ٹون سیٹ کر لی جائے۔

کمپوزنگ شہباز احمد







Apple

                                        سیب


انگریزی زبان میں کہتے ہیں
An Apply a Day 
Keep the Doctor away
یعنی روزانہ ایک سیب کھائیے اور ڈاکٹر سے دور رہئیے یقیناً سیب انسانی صحت کے لئے بہت مفید پھل ہے۔ اگر یہی بات ہے تو آئیے اس پھل کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کرتے ہیں۔
سیب سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر درخت پر کاشت ہونے والا پھل ہے۔ اس کا درخت مغربی ایشیا میں شروع ہوا۔ سیب کا ذکر بہت سی ثقافتوں میں موجود ہے۔ سیب ایک مشہور اور خوشنما ، خوشبو دار اور لذیز پھل ہے۔ یہ مختلف رنگوں اور ذائقوں کا ہوتاہے۔ لفظ سیب سنسکرت لفظ ’’ سیو‘‘ سے ماخوذ ہے۔

تاریخ 
ایک اندازے کے مطابق اس کی ابتداء کا مرکز مشرقی ترکی ہے جبکہ اس کے پھل میں ہزاروں سالوں میں تبدیلی آئی ہے۔ سکندر اعظم کے قازقستان کے سفر میں 328قبل مسیح میں سیب کا ذکر ملتا ہے۔ 
بنیادی طور پر اعلیٰ قسم کے سیب کی پیدا وار کے لئے سرد آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ جو پہاڑی علاقے سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہیں وہاں اس پھل کی کاشت کی جاتی ہے اور وہیں اس پھل کی اعلیٰ پیدا وار ملتی ہے۔

آج کل یہ پھل چین ، فرانس ، جرمنی، اٹلی اور امریکہ میں سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستا ن میں اس کی پیدا وار وادی کاغان، پونچھ، مانسہرہ، دیر، ایبٹ آباد، چترال، ہنزہ، کوئٹہ اور مظفر آباد میں ہوتی ہے۔ جبکہ بھارت میں شملہ اور کلوہ کی پیاڑیاں اس لذیذ اور خوشنما پھل کی پیدا وار کے لئے مشہور ہیں۔
سیب میں فاسفورس کے اجزاء موجود ہیں۔ اسی لئے یہ مقوی دماغ بھی ہے۔ اس میں فولاد کے اجزاء بھی شامل ہیں اس لئے اس کا استعمال خون کے ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور چہرے کو سرخ و شادات بنتا ہے۔

غذائیت 
 اس کا استعمال بہت سی کھانے کی اشیاء خاص طور پر میٹھے اور مشروبات میں بھی ہوتا ہے۔ سیب کھانے سے صحت پر بہت سے مفید اثرات ہوتے ہیں جبکہ اس کے بیج قدرے مضر مصحت ہیں۔
سیب کا چھلکا اتار کر کھانا ایک فاش غلطی ہے۔ اس کے چھلکے کی موٹائی میں وٹامنز کی ایک بڑی مقدار چپھی ہوتی ہے جو کہ چھلکا اتارنے پر عموماً ضائع ہو جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اسے چھلکے سمیت ہی کھایا جائے۔ 
سیب کھانے سے ہاضمہ کو تقویت ملتی ہے۔ سیب کھانا قبض کشا اثر رکھتا ہے اور اس کے علاوہ جگر کا فعل بھی تیز کرنا ہے ۔ سیب کا عرق معدے اور انتڑیوں کی بیماریوں کے لئے دافع جراثیم اور دافع بدبو ہے۔ گردوں کی صفائی میں اس کی کارکردگی لاجواب ہے۔
سیب دل کو شگفتہ اور دماغ کو ترو تازہ رکھتا ہے۔ اس وجہ سے پریشانی وغیرہ کی صورت میں انسانی جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

سیب کے چھلکوں کی نہایت لذیز , خوشبودار چائے تیار کی جا سکتی ہے۔
سیب کے چھلکوں کی چائے میں لیموں اور شہد کا اضافہ کر لیا جائے تو یہ پیچش اور تپ محرقہ یعنی ٹائیفائیڈ کی کمزوریوں کو دور کرتی ہے۔
اس کے اجزاء دانتوں اورمسوڑھوں میں جذب ہو کر انہیں خاصا مضبوط کرتے ہیں۔
اس کے متواتر استعمال سے اصابی کمزوری دور ہوتی ہے۔




کمپوزنگ شہبازاحمد





Parachute

                                      پیرا شوٹ

پیرا شوٹ ، چھتری کی طرح کا ایک آلہ ہے جو ہوا میں سے گزرتے ہوئے کھچاؤ کی قوت سے کام لے کر گرتے جسم کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ پیرا شوٹ نے ہوا بازی کے ساتھ ساتھ ترقی ک جس سے بہت سے ایروڈ ائنیمک مسائل حل ہوئے اور آج کا پیرا شوٹ بڑا قابل اعتبار اور کار گر آلہ شمار کیا جاتا ہے۔ ایک اچھے پیرا شوٹ کو ہلکا اور کم پھیلاؤ کا حامل ہونا چاہیے۔ لازم ہے کہ یہ اترنے کی رفتار کو مناسب حدود میں لائے اور اس دوران اپنی شکل اور توازن برقرار رکھے۔



 آغاز میں پیرا شوٹ ریشم بعد میں اب اس مقصد کے لئے زیادہ تر نائلون استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کھل کر پھول جاتا ہے۔ اس کے کناروں پر سے نیچے آتی ڈوریاں استعمال کرنے والے سے بندھی ہوتی ہیں۔ جدید پیرا شوٹ زیادہ تر پر نما ہوتے ہیں اور استعمال کرنے والا اسے بڑی صحت کے ساتھ کنٹرول کر سکتاہے۔ پیرا شوٹ میں لگی بعض ڈوریاں کھینچ کر استعمال کرنے والا اس میں سے کچھ ہوا نکال سکتا ہے۔ یوں گرنے کی رفتار کو بدلا جا سکتا ہے۔ بعض پیرا شوٹ دو یا دو سے زیادہ حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ مختلف حصوں کی ہوا میں کمی بیشی سے اترنے کا رخ موڑا جا سکتا ہے اور نیچے اترنے کے لئے حالات موزوں نہ ہوں تو ہوا میں افقاً دیر تک تیرا بھی جا سکتا ہے۔

پیرا شوٹ کا استعمال خاصی تربیت اور مہارت کا متقاضی ہے۔ نامناسب طور پر تہہ کیا گیا پیرا شوٹ بوقت ضرورت کھلتا نہیں۔ اگر اترنے والا خود کو صحیح طور پر دوریوں سے الگ نہیں کرتا تو گھسٹ کر زخمی ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ روایتی پیرا شوٹ 5.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے اترتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق پہلا پیرا شوٹ 1797ء میں ایک فرانسیسی جیکوئس گارنیرن  نے استعمال کیا۔ اس نے پیرا شوٹ کی مدد سے ایک غبار ے پر سفر کے دوران 920 میٹر کی بلندی سے چھلانگ لگائی۔



کمپوزنگ شہباز احمد 

AATQAAF

اعتکاف 

آخری عشرہ اور اعتکاف 
اعتکاف کے لغوی معنی کسی جگہ بند ہو جانے یا ٹھہرنے کے ہیں۔ (دینی) اصطلاح میں عبادت کی نیت سے روزہ رکھ کر (بیت) میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔ 
رمضان کے آخری عشرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت کے ساتھ اعتکاف کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ مسنون اعتکاف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ثابت ہے یہ ہے کہ کم از کم اعتکاف دس سن کا ہو۔ اعتکاف بیس رمضان المبارک کی  نماز فجر سے شروع کرنا چاہیے۔







اعتکاف کی اہمیت
حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ 
(صحیح بخاری جلد اول کتاب الصوم)

قرآن کریم میں رمضان المبارک کے آخر میں لیلۃ القدر کی برکات کا ذکر ہونے کے علاوہ آنضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے نہ صرف خود شب بیداری کرتے بلکہ اپنے گھروالوں کو بھی (عبادت کے لئے ) جگا دیتے۔ 
(مشکٰوۃ کتاب الصوم باب لیلۃ القدر )

غرض یہ کہ رمضان کے آخری عشرہ میں رحمت الٰہی اور مغفرت کے حصول کی بنا پر جنم سے آزادی ملتی ہے۔ خدا تعالیٰ غیر معمولی طور پر دعائیں قبول فرماتا ہے۔ ان ایام میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی دوسرے ایام کی نسبت زیادہ توفیق مرحمت ہوتی ہے۔





کموزنگ شہباز احمد

Lailatul Qadr


لیلۃ القدر


ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے دوسرے عشرہ میں اعتکاف فرمایا۔ جب دوسرا عشرہ ختم ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور خطاب فرمایا کہ جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف میں تھے وہ اعتکاف ختم نہ کریں بلکہ آخری عشرہ میں بھی اعتکاف جاری رکھیں۔ کیونکہ مجھ پر کھلا ہے کہ آخری عشرہ میں اعتکاف کروں ۔

فرمایا میں نے لیلۃ القدر دیکھی مگر اس کو بھول گیا۔ پس تم اسے آخری عشرہ کی وتر راتوں میں تلاش کرو۔ اور فرمایا میں نے دیکھا کہ پانی اور گیلی مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔



حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ اسی اکیسویں رات بارش ہوئی اور مسجد کی چھت ٹپک پڑی تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر پانی اور گیلی مٹی لگی تھی۔
(مسلم کتاب الصیام )




اس کے بعد سے رسول کریم صلی اللہ 
علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ آخری عشرہ کی وتر راتوں سے مراد رمضان کی 21ویں، 23ویں، 25ویں، 27ویں اور 29ویں رات ہے۔ ان میں سے کسی ایک میں لیلۃ القدر ہو سکتی ہے۔ اس میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں لیلۃ القدر کو پاؤں تو کیا دعا کروں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں دعا کرو: اے اللہ ! تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنا پسند کرتا ہے۔ پس مجھے معاف فرما دے۔
(ترمذی)



کمپوزنگ شہباز احمد

Laughter

طنزو مزاح


نہ بجلی ! نہ پانی ! دل ہے پھر بھی پاکستانی!

آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے گھر لائٹ ہے؟ اگر اس کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہے تو پھر
تیرا غم میرا غم .......... ایک ہی جیسا صنم

آئیے ہم بھی گفتگو عام کرتے ہیں لائٹ چلی گئی! لائٹ آگئی! لائٹ جانے والی ہے! لائٹ آنے والی ہے! جلدی سے کام
 کرلو لائٹ جا بھی سکتی ہے! ہمارا وطن پاکستان ایک واحد ملک ہے جو ہر دو گھنٹے بعد خوشخبری دیتا ہے کہ لائٹ آگئی ہے جس سے عوام کو تھوڑے وقفے کے لئے ہی سہی خوشی نصیب ہو جاتی ہے۔
کون کہتا ہے صرف اقبال کی شاعری ہی نے قوم کو جگایا یہاں واپڈا والوں کا ذکر نہ کرنا واپڈا والوں کے ساتھ 

زیادتی ہوگی کسی نے ان کے لئے کیا خوب کہا ہے ۔


جگا سکتی ہے شعر و شاعری قوموں کو غفلت سے
دعائیں ہم تو لیکن دیں گے اس بجلی کی قلت کو
نہیں اقبال نے اتنا جگایا قوم کو ہرگز
رکھا ہے جس قدر وپڈانے اب بیدار ملت کو


ہمارے یہاں بجلی ایک گم شدہ شے بن چکی ہے اس کی تلاش میں ایک اشتہار دینے کو جی چاہتا ہے۔

ایک ضروری اعلان

خواتین و حضرات ایک حسینہ کی عمر 66 سال ہے امی کا نام واپڈا اور ابو کا نام پیپکو بتاتی ہے ۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی گھر سے غائب ہے خدا کے لئے جس کو بھی ملے اس کے سسرال بھجوادیں۔
فقط اس کی ساس (پاکستان)



 آجکل لائٹ بند ہوتے ہی جنریٹر کا شور اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ آپ جس کے خلاف بھی بات کرنا چاہیں بے فکر ہو کر کریں کوئی نہیں سنے گا اگر یہ شور تکلیف کا سبب بن جائے سر میں درد شروع ہو جائے دل گھبرانے لگے تو جنریٹر والوں کے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ساتھ والے ہمسایوں کو، کنڈا ، دینے کی توفیق دے تاکہ یہ شور ان کے لئے قابل برداشت ہو جائے اور وہ سکھ کا سانس لیں۔

لوڈشیڈنگ کی فصیلت و برکات

1۔ جنریٹر ، یو پی ایس اور موم بتی بنانے والوں کے روز گار میں بے مثال اضافہ
2۔ موبائل چارج نہ ہونے کی وجہ سے بیلس کی انمول بچت
3۔ ٹی۔ وی کیبل نہ ہونے کی وجہ سے گناہوں میں نمایاں کمی
4۔ صبر کرنے سے جنت میں جانے کے زیادہ امکانات
5۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی کے کم استعمال پر بجلی کے بل میں واضح کمی اور بچت کا شاندار اور نادر موقع
امید ہے آپ سب اس فضیلت و برکات سے بھر پور مستفید ہو رہے ہوں گے۔




کمپوزنگ شہباز احمد 

Friday, 21 November 2014

حکایاتِ عالم

عقلمند بڑھیا


ایک عالم نے ایک بڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر کہا کہ بڑھیا! ساری عمر چرخہ کاتا یا کچھ اپنے خدا کی بھی پہچان کی؟ بڑھیا نے جواب دیا کہ بیٹا سب کچھ اسی چرخہ میں دیکھ لیا۔ فرمایا! بڑی بی! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ہے یا نہیں؟

بڑھیا نے جواب دیا کہ ہاں ہر گھڑی اور رات دن ہر وقت خدا موجود ہے۔ عالم نے فرمایا مگر اس کی دلیل؟ بڑھیا بولی، دلیل یہ میرا چرخہ۔ عالم نے پوچھا یہ کیسے؟ وہ بولی وہ ایسے کہ جب تک میں اس چرخہ کو چلاتی رہتی ہوں یہ برابر چلتا رہتا ہے اور جب میں اسے چھوڑ دیتی ہوں تب یہ ٹھہر جاتا ہے تو جب اس چھوٹے سے چرخے کو چلانے والے کی ضرورت ہے تو زمین و آسمان، چاند و سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو کس  طرح چلانے والے کی ضرورت نہ ہو گی؟ پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہئے۔ جب تک وہ چلاتا رہے گا یہ سب چرخے چلتے رہیں گے اور جب وہ چھوڑ دے گا تو یہ ٹھہر جائیں گے مگر ہم نے زمین و آسمان، چاند سورج کو ٹھہرے نہیں دیکھا تو جان لیا کہ ان کو چلانے والا ہر گھڑی موجود ہے۔




عالم نے پوچھا کیا اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ہے یا دو؟

بڑھیا نے جواب دیا کہ ایک ہے اور اس کی دلیل بھی میرا یہ چرخہ ہے کیونکہ جب اس چرخہ کو میں اپنی مرضی سے چلاتی ہوں تو یہ چرخہ میری مرضی سے ایک ہی طرف کو چلتا ہے اگر کوئی دوسری چلانے والی بھی ہوتی پھر یا تو وہ میری مددگار ہو کر میری مرضی کے مطابق چرخہ چلاتی تب تو خرچہ کی رفتار تیز ہو جاتی اور اس چرخہ کی رفتار میں فر ق آکر نتیجہ حاصل نہ ہوتا اور اگر وہ میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہت پر چلاتی تو یہ چرخہ چلنے سے ٹھہر جاتا یا ٹوٹ جاتا مگر ایسا نہیں ہوتا اس وجہ سے کہ کوئی دوسری چلانے والی نہیں ہے۔ اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دوسرا ہوتا تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ہو کر دن رات کے نظام میں فرق آجاتا یا چلنے سے ٹھہر جاتا یا ٹوٹ جاتا جب ایسا نہیں ہے تو ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ہی ہے۔

سبق: دنیا کی ہر چیز اپنے خالق کے وجود اور اس کی یکتائی پر شاہد ہے مگر عقل سلیم درکار ہے۔

کمپوزنگ شہباز احمد




Benefits of Eating Tomato

ٹماٹر کھانے کے فائدے


کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹماٹر سبزی بھی ہے اور پھل بھی اور یہ ایک ایسا پھل ہے جو صحت کے لئے بے حد مفید ہے۔

ٹماٹر ایک مشہور پھل ہے جو دنیا کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ ٹماٹر کی دو قسمیں ہیں میدانی اور پہاڑی۔ میدانی علاقوں کاٹماٹر گول ار پہاڑی علاقوں کا ٹماٹر لمبوترا ہوتا ہے۔ ٹماٹر کو کھٹے بینگن بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو پکا کر اور بغیر پکائے بکثرت کھایا جاتا ہے۔ یہ جتنا سرخ ہو گا اتنا ہی پختہ ہو گا اور جس قدر کم ہوگا اس قدر پختگی بھی کم ہوگی۔ اسے دنیا پھر میں کچے سلاد کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے۔ اس کے اجزا میں وٹامن اے، سی ، ایچ فولاد اور نمکیات کافی مقدار میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کا مزاج سرد اور مرطوب ہے۔ اس کے کچھ فوائد درج ذیل ہیں۔

1۔ ٹماٹروں میں موجود وٹامن بھی بلڈ پریشر اور کولیسٹول کی سطح کو کم رکھنے میں معاون ہوتاہے۔ اس کے نتیجے میں یہ فالج، دل کےدورے اور دیگر خطرناک مسائل سے بچاتاہے۔
2۔ ٹماٹروں میں موجود وٹامن اے آپ کے بالوں کے لئے مفید ہے جو بالوں کو مضبوط اور چمک دار رکھتا ہے، اس کے علاوہ یہ آنکھوں، دانتوں، جلد اور ہڈیوں کے لئے بھی مفید ہے۔
3۔ یہ بھوک لگاتا ہے اور کھانے کو ہضم کرتا ہے۔ قبض کشا ہوتا ہے
4۔ اگر بچوں کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو جائیں تو ٹماٹر کا رس متواتر پلانے سے جلد آرام آجاتا ہے۔
5۔۔ خون کی کمی ، یرقان، ذیابطیس اور موٹاپے میں صبح خالی پیٹ ایک بڑا لال ٹماٹر استعمال کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے یعنی ٹماٹر پھل کی شکل میں استعمال کیا جائے

6۔ ٹماٹر خون کو صاف کرتا ہے، جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ وہم اور وہشت کو ختم کرتا ہے ،طبیعت کو فرحت دیتاہے، گرمیوں میں اس کا استعمال گرمی اور حرارت کو ختم کر دیتا ہے۔ اس لئے اس کا گرمیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ہمیشہ صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے کہ دوپہر کے کھانے کے ساتھ مولی، چقندر، سلاد اور ٹماٹر کا استعمال ضرور کیا جائے۔ تب دق اور گردوں کے مریضوں کے لئے ٹماٹر مفید نہیں ہے۔

تحقیق کے مطابق ٹماٹر بیجوں کے بغیر کھایا جائے تو یہ پتے اور گردے کی پتھری کو کم کرتا ہے۔





کمپوزنگ شہباز احمد

Castrol ways to reduce

کولیسٹول کم کرنے کے طریقے


موٹا پا صحت نہیں بلکہ بیماری ہے اور سستی کا بھی باعث ہے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ موٹاپا جسم میں کولیسٹرول لیول بڑھنے کی وجہ سے ہوتاہے۔ کولیسٹرول لیول کو کنڑول کرنے کے لئے درج ذیل باتوں پر عمل کریں:۔




اپنی خوراک میں زیادہ سے زیادہ پھل 
اور سبزیوں کا استعمال کریں اور گوشت ، چکنائی کی چیزیں جیسے انڈے، مکھن وغیرہ سے جس حد تک ممکن ہو اجتناب کریں۔





خوراک جس میں فائبر کی تعداد زیادہ ہو اس کا استعمال زیادہ رکھیں کیونکہ یہ جسم کو ایک طرف طاقت دیتے ہیں تو دوسری طرف جسم کے اندر کولیسٹرول کی مقدار کو ٹھیک رکھتے ہیں۔ 






 omigazاپنی خوراک میں سمندری 
خوراک یعنی مچھلی کا استعمال زیادہ رکھیں جو کہ دل کے لئے فا ئدہ مند ہے کیونکہ میں 
کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔






قدرتی چکنائی جن میں ڈرائی فروٹ شامل ہیں جیسے اخروٹ ، بادام  اور دوسرے بہت سارے میوہ جات ان کا مناسب استعمال آپ کو صحت کو صحت مند اور چست رکھتا ہے۔




اپنی خوراک میں عام بناسپتی گھی اور تیل کی بجائے زیتون کا تیل استعمال زیادہ رکھین۔ اس تیل میں اینٹی اوریڈنٹ پائے جاتے ہیں۔ جس سے جم میں ایل ڈی ایل کی مقدار کم رہتی ہے۔ کچی سبزیوں کے سلاد کے ساتھ زیتون کا تیل لینے سے صحت نہ صرف اچھی رہتی ہے بلکہ انسان ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔



ایسی خوراک کا استعمال جس میں سڑولز ہوں ان کا استعمال اچھا ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں اہل ڈی ایل کو متوازن رکھتے ہیں۔ ان میں مصنوعی مکھن ، نارنگی کا جوان، لسی شامل ہیں۔




 شہباز احمد

Wednesday, 19 November 2014

Qurtaba City

قرطبہ جنوبی سپین کا شہر 

قرطبہ مسلمانوں کے شاندار ماضی کا غماز اور اپنے دامن میں قدیم تہذیب و ثقافت کی دولت سمائے ہوئے اہم شہر ہے۔ یہ 
جنوبی سپین کے صوبے قرطبہ کا دارالحکومت ہے جو دریا گا دلکویر کے ساتھ ساتھ 37.88عرض بلد اور 4.77 طول بلد پر واقع ہے۔ اس شہر کی آباد ی 3لاکھ 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ ویسے تو شہر کی بنیاد رومن ایمپائر مین کلاڈیس مارسلیس نے رکھی تھی، مگر اس شہر کو دوام اور عروج مسلمان حکمرانوں نے بخشا۔ دسیوں صدی میں اس شہر کی آبادی پانچ لاکھ تھی اور دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں اس کا شمار کیا جاتا تھا۔
۔716 عیسوی میں یہ شہر بنی امیہ کے  دور میں فتح ہوا اور یہ شہر تقریباً 1031ء تک مسلمانوں کے زیر حکمرانی رہا، اس دوران بہت سی لازوال تخلیقات اور عمارات ظہور میں آئیں اور ساتھ ساتھ اس شہر نے ثقافتی ، تجارتی اور اقتصادی طور پر بے مثال ترقی کی۔
شہر کی  تعمیرات میں سب سے مشہور اور خوبصورت مسجد قرطبہ ہے ۔ ویسے تو شہر میں ایک ہزار کے لگ بھگ مسا جد تھیں، مگر یہ مسجد سب سے ممتاز اور پُر شکوہ تھی اور ایک وقت میں یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسجد شمار کی جاتی تھی۔ مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے اس کی تعمیر و توسیع جاری  رکھی۔ 1236ء میں فرڈیننڈ نے قرطبہ شہر کو مسلمانوں سے دوبارہ فتح کیا اور اس کو گرجا میں تبدیل کردیا۔ بنی امیہ کے بعد یہ علاقہ عباسیوں اور فاطمیں کے زیر نگیں رہا۔ 
دسویں صدی میں مسلمانوں کی حکمرانی کا عروج تھا جب عبدالرحمن سوئم نے نہ صرف اندلس کی سلطنت کو متحد کیا، بلکہ شمال کی جانب عیسائی ریاستوں کو بھی سلطنت میں شامل کیا۔ 
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے یہاں کی بہت سی تاریخی عمارات کو عالمی ورثے کا حصۃ قرار دیا ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عالمی  ورثے کی حامل عماراتیں اس شہر میں واقع ہیں۔ 
شہباز احمد